World
پانچویں نسل کی فضائی طاقت اور روایتی ڈیٹرنس پر آئی ایس ایس آئی کی بریفنگ
اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (ISSI) نے پانچویں نسل کی فضائی طاقت کی اسٹریٹجک منطق کے موضوع پر ایک اہم بریف جاری کیا ہے۔ اس بریفنگ میں جدید جنگی تناظر اور روایتی ڈیٹرنس کے تصورات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) نے حال ہی میں 'روایتی ڈیٹرنس کا از سر نو جائزہ: پانچویں نسل کی فضائی طاقت کی اسٹریٹجک منطق' کے عنوان سے ایک جامع ایشو بریف جاری کیا ہے۔ اس بریفنگ کا مقصد جدید عسکری ماحول میں فضائی طاقت کے بدلتے ہوئے کردار اور روایتی توازنِ قوت پر اس کے اثرات کا احاطہ کرنا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ دور میں جنگی تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج ناگزیر بن چکا ہے۔ بریفنگ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح پانچویں نسل کے جنگی طیارے اور جدید دفاعی نظام روایتی ڈیٹرنس کی تعریف کو نئے سرے سے تشکیل دے رہے ہیں۔ اسٹریٹجک امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ فضائی برتری اب صرف روایتی فضائی لڑائی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، اور الیکٹرانک وارفیئر جیسی جدید صلاحیتیں بھی شامل ہو چکی ہیں جو روایتی ڈیٹرنس کے روایتی اصولوں کو چیلنج کرتی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ یہ دستاویز اس بات کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کس طرح ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز علاقائی اور عالمی سطح پر سکیورٹی کے منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہیں۔ بریفنگ میں اس ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دفاعی پالیسی سازوں کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اپنی اسٹریٹجک حکمت عملیوں میں تبدیلیاں لانی ہوں گی تاکہ بدلتے ہوئے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔