LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں کاسمیٹکس انڈسٹری اور ریگولیٹری چیلنجز

News Image
پاکستان میں کاسمیٹکس اور بیوٹی پروڈکٹس کی مارکیٹ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے اس شعبے کی سخت نگرانی اور ریگولیشن تاحال ناکافی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معیاری اور محفوظ ضابطہ کار نہ ہونے کی وجہ سے غیر معیاری مصنوعات مارکیٹ میں عام ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں پچھلے چند برسوں کے دوران کاسمیٹکس اور ذاتی دیکھ بھال کی مصنوعات کے کاروبار میں ایک شاندار اور غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک بھر میں ای کامرس پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور مقامی مارکیٹس میں نئے بیوٹی برانڈز اور درآمد شدہ مصنوعات کی بھرمار ہو چکی ہے۔ نوجوان نسل بالخصوص خواتین میں جلد کی دیکھ بھال اور میک اپ کے رجحان میں اضافے کے باعث یہ صنعت ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ تاہم اس خوش آئند اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ کئی سنجیدہ نوعیت کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں، جن میں سب سے اہم متعلقہ اداروں کی طرف سے موثر ریگولیٹری نگرانی کا فقدان ہے۔ ایشین نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، کاسمیٹکس کی اس تیز رفتار ترقی کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ سرکاری ضابطہ کار اور نگرانی کے ادارے اس کا ساتھ دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مارکیٹ میں متعدد ایسے برانڈز اور غیر رجسٹرڈ پروڈکٹس فروخت ہو رہے ہیں جن کے اجزاء اور معیار کے بارے میں صارفین کو مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ بعض سستے اور غیر معیاری کاسمیٹکس میں نقصان دہ کیمیکلز، پارابینز اور ممنوعه مواد کا استعمال کیا جاتا ہے، جو جلد کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ دیگر طبی پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین صحت اور صنعت سے وابستہ ذمہ دار افراد کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر سخت قوانین کا نفاذ نہ کیا گیا اور انشورنس یا کوالٹی کنٹرول کے عمل کو یقینی نہ بنایا گیا تو اس کے طویل المدتی منفی اثرات سامنے آئیں گے۔ پاکستان کے طبی ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ غیر معیاری کریموں اور لوشنوں کے استعمال سے الرجی، جلد کا کینسر اور دیگر دائمی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد خوبصورتی کے حصول کی تگ و دو میں سستے اور نامعلوم برانڈز کا انتخاب کر لیتی ہے، جن کی جانچ پڑتال کا کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی تیار کریں۔ کاسمیٹکس انڈسٹری کے لیے سخت کوالٹی اسٹینڈرڈز کا نفاذ کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خریدداری کرتے وقت برانڈ کے معیار اور مصدقہ ہونے کو یقینی بنائیں، جس سے نہ صرف صحت کے خطرات کم ہوں گے بلکہ ایک شفاف اور صحت مند مارکیٹ کا قیام بھی ممکن ہو سکے گا۔