LIVE
Loading Breaking News...

روس کا غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کے ماڈل پر بڑا موقف

News Image
روس نے غیر ملکی کاروبار کے لیے سادہ اسکرو ڈرائنگ اسمبلی کے ماڈل کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ صدارتی مشیر انتون کوبیاکوف کا کہنا ہے کہ ملک کو سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کی مہارت درکار ہے۔
ماسکو: روس نے غیر ملکی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے روایتی اور سادہ نوعیت کے 'اسکرو ڈرائنگ اسمبلی' ماڈل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ روسی صدارتی مشیر انتون کوبیاکوف نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کو اس وقت محض مالیاتی سرمائے کی نہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجیز اور اعلیٰ درجے کی مینجمنٹ مہارتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی تجارتی شراکت داری کا مقصد ملک میں صنعتی ترقی اور تکنیکی خود کفالت کو یقینی بنانا ہونا چاہیے نہ کہ صرف پرزہ جات کو جوڑنے تک محدود رہنا۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انتون کوبیاکوف کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی اقتصادی منظر نامے میں روس کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایسی غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرے جو حقیقی معنوں میں ملکی پیداواری صلاحیت کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی پراجیکٹس محض اسمبلی پلانٹس تک محدود رہے جن سے مقامی سطح پر تحقیق و ترقی اور جدید تکنیکی مہارتوں کی منتقلی کا عمل سست رہا۔ اب ماسکو حکومت چاہتی ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں روس میں مکمل پیداواری اور سائنسی بنیادیں قائم کریں۔ صدارتی مشیر نے مزید کہا کہ روس کی معیشت اب پابندیوں کے باوجود اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑی ہو رہی ہے اور ملک کے دروازے ان تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے کھلے ہیں جو منصفانہ اور باہمی تعاون کی بنیاد پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روسی صنعتوں کی جدید کاری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور حکومت کا ہدف ملک کو عالمی سطح پر ایک اہم تکنیکی اور صنعتی مرکز بنانا ہے۔