Technology
مصنوعی ذہانت: چین اور امریکہ کے مابین ٹیکنالوجی کی جنگ اور عوامی تاثر
نئی تحقیق کے مطابق چین میں 84 فیصد افراد مصنوعی ذہانت کو لے کر پرجوش ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح صرف 38 فیصد ہے۔ اس فرق کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے شہریوں کی مصنوعی ذہانت سے وابستہ توقعات اور مثبت رویہ ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے عالمی میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، اور اس دوڑ کا ایک دلچسپ پہلو دونوںممالک کے عوام کا اس ٹیکنالوجی کے بارے میں رویہ ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چینی شہریوں میں مصنوعی ذہانت کو لے کر جوش و خروش اور اعتماد کی سطح امریکہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق چین کے تقریبا 84 فیصد شہری مصنوعی ذہانت کو لے کر پرجوش ہیں اور 72 فیصد کو اس ٹیکنالوجی پر بھروسہ بھی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ میں صورتحال بالکل مختلف ہے جہاں صرف 38 فیصد لوگ اے آئی کے بارے میں جوش رکھتے ہیں اور محض 32 فیصد اس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ حیرت انگیز خلیج دونوں معاشروں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے زیادہ اس سے جڑی توقعات کی بنیاد پر دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چینی معاشرہ مصنوعی ذہانت کو ایک انتہائی مثبت اور عملی حل کے طور پر دیکھ رہا ہے جو ان کی روزمرہ زندگی، معیشت اور کام کے نظام کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مغربی ممالک میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خدشات، نوکریوں کے چھن جانے کا ڈر اور اخلاقی سوالات زیادہ زیر بحث رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے عوام میں ایک قسم کی ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ یہ عوامی رویہ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر چین میں عوامی سطح پر اے آئی کو اس قدر پذیرائی حاصل رہی اور نئی ایپلی کیشنز کو تیزی سے اپنایا گیا، تو یہ فیکٹر اس ملک کو اس عالمی ریس میں سب سے آگے لے جانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ عوام کے ان خدشات کو دور کریں اور ٹیکنالوجی پر اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ وہ عالمی سطح پر پیچھے نہ رہ جائیں۔