LIVE
Loading Breaking News...

داریو امودی کا اے آئی کی مرکزیت اور اوپن ویٹ ماڈلز پر تبصرہ

News Image
انتروپی کے چیف ایگزیکٹو داریو امودی کا کہنا ہے کہ اوپن ویٹ ماڈلز مصنوعی ذہانت میں مرکزیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے کیونکہ جدید چپس تک رسائی تاحج محدود ہے۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ وسائل کی غیریاب دستیابی بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے انتروپی (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر داریو امودی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اوپن ویٹ ماڈلز (Open-Weights Models) مصنوعی ذہانت کی صنعت میں پائی جانے والی مرکزیت کو مکمل طور پر ختم کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق، اگرچہ یہ ماڈلز ٹیکنالوجی کو عام صارفین اور چھوٹے ڈویلپرز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم جدید چپس اور بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ وسائل تک محدود رسائی ایک ایسا بنیادی مسئلہ ہے جو بدستور برقرار ہے۔ امودی کا تجزیہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ محض اوپن ویٹ ماڈلز کا اجرا مصنوعی ذہانت کی دنیا میں حقیقی وکندریقرت (Decentralization) لانے کے لیے کافی نہیں۔ جدید ہارڈویئر، خصوصاً انتہائی طاقتور گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کی تیاری اور فراہمی چند ایک بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس ہی مرکوز ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے انتہائی جدید ترین اور بڑے اے آئی ماڈلز کی تربیت کرنا اور انہیں چلانا عملی طور پر انتہائی مشکل یا ناممکن ہو جاتا ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین اس تجزیے پر تنقید کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ نظریہ ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی کارکردگی، کوانٹائزیشن کی تکنیکوں اور مقامی سطح پر ماڈلز کی تعیناتی کی رفتار کو کم کرکے پیش کرتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی یہ پیشرفت مستقبل میں اے آئی کو مزید جمہوری اور عام فہم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، جس سے چند بڑے اداروں کا غلبہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اس وقت اوپن سورس اور بند ماڈلز (Closed Models) کے درمیان بحث عروج پر ہے۔ ایک طرف جہاں انتروپی جیسی کمپنیاں سیکیورٹی اور کنٹرول کے پیش نظر اپنے ماڈلز کو محدود رکھتی ہیں، وہیں اوپن ویٹ کے حامی اس بات پر بضد ہیں کہ یہ ماڈلز ہی تحقیق اور ترقی کے حقیقی فروغ کا واحد ذریعہ ہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ہارڈویئر کی دستیابی اور سافٹ ویئر کی جدت کا یہ توازن کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔