LIVE
Loading Breaking News...

لاطینی امریکہ میں ڈیجیٹل ڈالرز کا استعمال اور اس کے خطرات

News Image
لاطینی امریکہ میں مقامی کرنسیوں کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے شہریوں کا رجحان ڈیجیٹل ڈالرز اور کرپٹوسٹیبل کوائنز کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مہنگائی سے بچاؤ کا ذریعہ تو بن رہا ہے لیکن اس میں کچھ مالیاتی اور سکیورٹی خدشات بھی شامل ہیں۔
لاطینی امریکہ کے ممالک میں اقتصادی عدم استحکام اور مقامی کرنسیوں کی قدر میں بڑی گراوٹ کے باعث عوام نے ڈیجیٹل ڈالرز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن جیسے ملک میں اگر کسی شہری نے 2016 میں اپنی جمع پونجی مقامی کرنسی میں رکھی تھی تو ایک دہائی کے دوران اس کی اصل قدر میں تقریباً ننانوے فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عام لوگ روایتی بینکنگ سسٹم سے نکل کر امریکی ڈالر سے منسلک ڈیجیٹل اثاثوں اور اسٹیبل کوائنز کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ اپنی محنت کی کمائی کو مہنگائی اور کرنسی کی تنزلی سے بچا سکیں۔ خطے کے کئی ممالک میں مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کے پاس ڈیجیٹل ڈالرز اپنانے کے سوا کوئی بڑا متبادل نہیں بچا۔ یہ ڈیجیٹل کرنسیز بالخصوص اسٹیبل کوائنز لوگوں کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ اپنے سرمائے کو ایک مستحکم مالیاتی اکائی میں محفوظ رکھ سکیں۔ اس رجحان نے فِن ٹیک کمپنیوں اور ڈیجیٹل والٹس کے استعمال کو بھی فروغ دیا ہے، جہاں عام شہری آسانی سے اپنے پیسوں کا لین دین کر سکتے ہیں اور روزمرہ کی بچت کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، اس تمام صورتحال کے باوجود مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل ڈالرز کا استعمال مکمل طور پر خطرات سے پاک نہیں ہے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ریگولیٹری فریم ورک کی کمی، سائبر سکیورٹی کے خطرات اور ہیکنگ کے خدشات صارفین کی جمع پونجی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے لوگوں کو تکنیکی نالج نہ ہونے کی وجہ سے فراڈ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی سطح پر بھی ان ڈیجیٹل کرنسیز کو لے کر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ ممالک میں مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیز کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو اپنے مالیاتی نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ کچھ مقامات پر اسے وقت کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا لاطینی امریکہ کے ممالک اس ڈیجیٹل تبدیلی کو قانونی اور محفوظ دائرے میں لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں تاکہ عام شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔