World
برطانیہ میں قتل کی سازش: ناروے کا نوعمر ہٹ مین قصوروار قرار
ناروے سے تعلق رکھنے والا ایک نوعمر نوجوان برطانیہ میں ایک شخص کے قتل کی سازش کے جرم میں قصوروار قرار پایا ہے۔ ملزم نے گزشتہ سال مارچ میں ہڈرز فیلڈ کا سفر اس ہولناک ارادے کے ساتھ کیا تھا۔
برطانیہ کی ایک عدالت میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ناروے سے تعلق رکھنے والے ایک نوعمر نوجوان کو قتل کی سازش تیار کرنے اور اس پر عمل درآمد کی کوشش کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سنسنی خیز واقعے نے برطانوی اور نارویجن دونوں ممالک میں سنسنی پھیلا دی ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اتنی کم عمری میں لڑکا بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کے جرائم سے کیسے منسلک ہوا۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد سے یہ بات عیاں ہوئی کہ جوہانس نیٹ لینڈ (Johannes Natland) نامی یہ نوعمر ملزم گزشتہ سال کے شروع میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ناروے سے برطانیہ آیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کا مقصد مارچ کے مہینے میں برطانوی شہر ہڈرز فیلڈ کا سفر کر کے ایک طے شدہ ہدف کو نشانہ بنانا تھا، جسے عرف عام میں 'ہٹ' کہا جاتا ہے۔ برطانوی پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں نے بوقتِ ضرورت بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس خطرناک منصوبے کو ناکام بنایا اور مشتبہ نوعمر کو حراست میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے اس واردات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور خفیہ میسجنگ سسٹمز کا استعمال کیا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکے، تاہم برطانوی انٹیلی جنس کی مستعدی نے اس کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیے گئے شواہد نے جج اور جیوری کو حیرت میں ڈال دیا کہ کس طرح بیرون ملک سے ایک نابالغ یا نو عمر لڑکے کو برطانیہ میں قتل جیسی سنگین واردات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ملزم کو قتل کی سازش کا مرتکب قرار دیا۔ ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے والے کم عمر ملزمان کے خلاف یہ ایک اہم عدلیہ کا فیصلہ ہے جو آنے والے دنوں میں قانونی نظیر بن سکتا ہے۔
فیصلہ آنے کے بعد برطانوی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے جرائم اور ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے نوجوانوں کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے کے رجحان کی سختی سے روک تھام کی جائے گی۔ دوسری جانب، اس مقدمے کی روشنی میں ناروے اور برطانیہ کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو مزید سراہا جا رہا ہے تاکہ اس سازش کے پیچھے موجود دیگر ممکنہ ماسٹر مائنڈز یا سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور خطے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔