LIVE
Loading Breaking News...

اسمارٹ فونز میں چپ کمپرومائز: ایک ہزار ڈالر کے فونز کا خفیہ سچ

News Image
اسمارٹ فونز کی صنعت میں مہنگے فلیگ شپ ماڈلز کے اندر استعمال ہونے والی چپس کے حوالے سے ایک نئے خطرے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ صارفین اب زیادہ قیمت ادا کرنے کے باوجود توقع کے مطابق تیز ترین کارکردگی حاصل نہیں کر پا رہے۔
آج کے دور میں جب کوئی صارف بازار سے ایک ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ رقم خرچ کرکے ایک نیا فلیگ شپ اسمارٹ فون خریدتا ہے، تو اس کی بنیادی توقع یہی ہوتی ہے کہ اسے مارکیٹ کا سب سے تیز ترین اور جدید ترین پروسیسر ملے گا۔ ماضی میں مہنگے فون خریدنے کا مطلب ہی یہی تھا کہ آپ کو بہترین کارکردگی اور رفتار فراہم کی جائے گی۔ لیکن اب صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور یہ بات ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتی کہ مہنگا فون خریدنے کا مطلب بہترین چپ کا حصول ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے حال ہی میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں اب بعض اوقات اخراجات بچانے یا سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے چپس کے معاملے پر کچھ سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین بظاہر ایک ہزار ڈالر کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر ہارڈ ویئر وہ نہیں ہوتا جس کی مارکیٹ میں تشہیر کی جاتی ہے یا جس کی توقع کی جاتی ہے۔ اس مسئلے کے اثرات صرف عام صارفین تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ موبائل گیمنگ، ملٹی ٹاسکنگ اور مصنوعی ذہانت کے فیچرز پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب فون کے اندرونی اجزاء میں اس طرح کا کوئی سمجھوتہ کیا جاتا ہے، تو فون طویل مدتی استعمال کے دوران سست روی کا شکار ہو سکتا ہے یا بیٹری کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اب صرف فون کی ظاہری قیمت یا برانڈ نیم دیکھنے کے بجائے اس کے تکنیکی آڈٹ اور گہرائی میں موجود فیچرز کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ مستقبل میں اس رجحان کے خلاف صارفین اور ریگولیٹری اداروں کی طرف سے مزید سوالات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ اسمارٹ فون انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ شفافیت کو فروغ دے تاکہ صارفین کو ان کی محنت کی کمائی کا پورا صلہ مل سکے۔ اس دوران ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صرف اشتہارات پر بھروسہ کرنے کے بجائے تفصیلی ریویوز پڑھیں اور اس کے بعد ہی کوئی بڑا فیصلہ کریں۔