World
اینتھنی فوسی کا کووڈ کی ابتدا پر سینیٹ میں جواب دینے سے انکار
امریکہ کے سابق اعلیٰ ترین صحت کے عہدیدار اینتھنی فوسی نے کووڈ کی ابتدا کے حوالے سے ہونے والی امریکی سینیٹ کی سماعت میں گواہی دینے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ریپبلکنز ان کے بیانات کو جھوٹی گواہی کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
امریکہ کے معروف اور سابق اعلیٰ ترین صحت کے عہدیدار ڈاکٹر اینتھنی فوسی نے کووڈ نائنٹین کی ابتدا سے متعلق امریکی سینیٹ کی ایک اہم سماعت کے دوران سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں اس وائرس کے ماخذ کے بارے میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس پر شدید بحث جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ڈاکٹر اینتھنی فوسی نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ سخت خوفزدہ ہیں کہ ریپبلکن پارٹی کے اراکین ان کی گواہی اور بیانات کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف جھوٹی گواہی یعنی پرجری کا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کے قانونی حقوق اور تحفظ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں ہونے والی اس سماعت کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا کورونا وائرس کی وبا چین کی کسی لیبارٹری سے پھیلی تھی یا یہ قدرتی طور پر وجود میں آئی تھی۔ اس حساس معاملے پر ڈاکٹر فوسی کا بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا، تاہم ان کے اس فیصلے سے تحقیقاتی عمل میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب، ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے ڈاکٹر فوسی کے اس مؤقف پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے تک اہم سرکاری عہدے پر فائز رہنے والے شخص کو اس طرح کے اہم قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے سوالات سے فرار حاصل نہیں کرنا چاہیے اور سچائی کو سامنے لانا چاہیے۔