Business
ایشیائی کرنسیوں میں بہتری، تیل کی قیمتیں اور ڈالر کا اثر
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کے باوجود کمزور امریکی ڈالر کی وجہ سے ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔ ماہرین معیشت اس رجحان کو خطے کے تجارتی توازن کے لیے ایک عارضی سہار قرار دے رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں رواں ہفتے کے دوران ایک دلچسپ مالیاتی رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بہتری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کمزور ہوتے ہوئے امریکی ڈالر نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات کو کافی حد تک زائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے ایشیائی خطے کی مارکیٹوں کو کچھ حد تک ریلیف ملا ہے۔
بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کی بنیادی وجوہات میں امریکی معیشت سے متعلق حالیہ اقتصادی اشاریے اور فیڈرل ریزرو کی ممکنہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں قیاس آرائیاں شامل ہیں۔ جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو عام طور پر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ایشیائی خطے کی کرنسیوں کو سانس لینے کا موقع ملتا ہے کیونکہ ان ممالک کی درآمدات، بالخصوص توانائی کی درآمدات کے بلوں پر دباؤ کچھ کم ہو جاتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر عالمی تنازعات کی وجہ سے تیل کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فی الحال ڈالر کی کمی نے ایشیائی کرنسیوں کو سہارا دے رکھا ہے، لیکن یہ صورتحال انتہائی نازک اور عارضی ہو سکتی ہے۔ اگر تیل کی قیمتوں میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو طویل مدت میں درآمدی لاگت بڑھنے سے ایشیائی ممالک کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے براہ راست اثرات ان کی مقامی کرنسیوں پر پڑیں گے۔ کاروباری حلقے اور سرمایہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کے معاشی فیصلوں اور تجارتی حکمت عملی کو بہتر بنایا جا سکے، جبکہ مرکزی بینک بھی اپنی کرنسیوں کے استحکام کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔