Business
سونے کی قیمت میں اضافہ، 4400 ڈالر سے اوپر تجارت
امریکہ سے موصول ہونے والے معاشی اعداد و شمار کمزور رہنے کی وجہ سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ 4400 ڈالر کی حد عبور کر گئی ہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے اور قیمتی دھات کی قیمت 4400 ڈالر فی اونس کی اہم سطح سے اوپر ٹریڈ کر رہی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے معاشی اعداد و شمار توقعات سے کچھ نرم رہے ہیں، جس کے بعد سرمایہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی طرف سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات اب کافی حد تک کم ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے سونے کی مارکیٹ میں خریداروں کو دوبارہ متحرک کر دیا ہے اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد مارکیٹ میں ہونے والی حالیہ فروخت کے دباؤ کے بعد اب سونے کی قیمتوں میں بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ چند تجارتی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا بیل مارکیٹ (तेजी का रुझान) مزید آگے بڑھنے سے پہلے کچھ وقفہ لے گی یا نہیں، لیکن مجموعی طور پر امریکی معاشی اشاریے سونے کے حامی دکھائی دے رہے ہیں۔ ہیراؤس (Heraeus) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جہاں ایک طرف سونے کو امریکی اعداد و شمار سے تقویت مل رہی ہے، وہیں دوسری طرف چاندی کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دنیا بھر میں چاندی کی سلاخوں اور سکوں کی فروخت میں بھی زبردست بحالی دیکھنے میں آئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی صورتحال، افراط زر کے اعداد و شمار اور مرکزی بینکوں کے فیصلوں کا سونے کی قیمتوں کے آئندہ رجحان پر براہ راست اثر پڑے گا۔ فی الحال، 4400 ڈالر کی سطح سے اوپر سونے کی یہ پیش قدمی اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سونے کو ایک محفوظ ترین اثاثہ تصور کر رہے ہیں اور قلیل مدت میں اس کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔