LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں کوکروچ تحریک اور سرکاری اسکولوں کا تنازع

News Image
بھارت میں ایک نئی سیاسی اور سماجی ہلچل نے جنم لیا ہے جہاں 'کوکروچ' تحریک نے سرکاری اسکولوں کا رخ کر لیا ہے۔ اس مہم کے تحت حامیوں کو قریب ترین سرکاری اسکولوں کا آڈٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کا آغاز ایک پرتشدد واقعے سے ہوا ہے۔
بھارت میں سیاسی ہلچل اس وقت ایک نئے موڑ پر داخل ہو چکی ہے جب 'کوکروچ' نامی ایک انوکھی تحریک نے ملک کے سرکاری اسکولوں کو اپنے احتجاج اور کارروائیوں کا نیا میدانِ جنگ بنا لیا ہے۔ اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں نے اپنے حامیوں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے قریبی سرکاری اسکولوں کا سخت آڈٹ کریں تاکہ نظام کی مبینہ خامیوں کو بے نقاب کیا جا سکے، تاہم اس پیش رفت کے نتیجے میں زمینی سطح پر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نئی مہم کا آغاز ایک دردناک اور پرتشدد واقعے یعنی ایک ہلاکت سے ہوا ہے جس نے پورے تعلیمی اور سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت کو پہلے ہی مختلف محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اسکولوں کو براہِ راست نشانہ بنانے والی اس تحریک نے حکمران جماعت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تحریک کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار اور وہاں موجود بدعنوانی کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، اسی مقصد کے تحت کارکنوں کو اسکولوں کے انتظامات کی خود نگرانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے تعلیمی نظام مزید بگاڑ کا شکار ہو سکتا ہے اور طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کے حامی حلقوں نے اس مہم کو سیاسی رنگ دینے اور امن عامہ کو خراب کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے۔ اس صورتحال نے والدین اور اساتذہ کو بھی گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو اسکولوں میں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خائف ہیں۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو سیاسی دنگل بنانے کے بجائے تعلیمی بہتری پر توجہ دینی چاہیے، لیکن حالیہ پرتشدد واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ تحریک آسانی سے تھمنے والی نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حکومت کی جانب سے بھی سخت اقدامات اٹھائے جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔