LIVE
Loading Breaking News...

شام کے ائیر بیس پر فضائی حملے، اسرائیل ملوث

News Image
شام کے صوبے ادلب میں واقع ایک فوجی ائیر بیس پر آٹھ فضائی حملے کیے گئے ہیں جن کا الزام اسرائیلی افواج پر عائد کیا گیا ہے۔ شامی سرکاری ٹی وی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں مادی نقصان تو ہوا ہے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع صوبہ ادلب میں ایک فوجی ائیر بیس کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ائیر بیس پر کُل آٹھ فضائی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں عسکری تنصیبات اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی بھی قسم کے جانی نقصان یا ہلاکت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ شامی عسکری حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیلی افواج کی طرف سے انجام دی گئی ہے۔ شامی سرکاری ٹی وی نے ایک فوجی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ادلب کے اسزو اور اس کے گردونواح میں موجود دفاعی تنصیبات کو ہدف بنایا۔ حالیہ مہینوں میں شام کے مختلف حصوں بالخصوص فوجی اڈوں اور ہوائی اڈوں پر اس قسم کے فضائی حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جنہیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے شام کے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد شامی فضائی دفاعی نظام اور امدادی ٹیمیں حرکت میں آ گئیں اور متاثرہ علاقے کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملوں کے مقامات پر آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے جنہیں فائر فائٹرز نے قابو میں لے لیا۔ دوسری جانب، اس فضائی حملے پر تاحال اسرائیلی حکام کی طرف سے کوئی باضابطہ تبصرہ یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، جو کہ اس نوعیت کے بیشتر سرحدی اور فضائی واقعات میں روایتی طور پر دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ شام میں اس قسم کے مسلسل حملے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے اس خطے کو پہلے ہی انتہائی غیر مستحکم بنا رکھا ہے، اور ائیر بیسز پر ہونے والے یہ حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں۔ علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی علاقائی جنگ کے امکانات کو روکا جا سکے۔