LIVE
Loading Breaking News...

حکام کا سخت قدم: لازمی ٹیسٹ نہ دینے والے ملازمین کی تنخواہیں روکی جائیں گی

News Image
حکومت نے انتظامی اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ملازمین کے لیے ایک لازمی ٹیسٹ کا نفاذ کیا ہے۔ اس ٹیسٹ سے انکار کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں فوری طور پر روک دی جائیں گی۔
حکومت نے سرکاری اداروں میں کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت لانے کے لیے ایک نیا اور اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ ملازمین کے لیے ایک لازمی ٹیسٹ دینا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم ملازمین کی صلاحیتوں کو جانچنے اور دفتری امور میں بہتری لانے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے تاکہ سرکاری مشینری کو مزید فعال بنایا جا سکے۔ حکومتی احکامات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو بھی سرکاری ملازم اس لازمی ٹیسٹ میں شرکت کرنے سے انکار کرے گا یا اس عمل سے گریز کرے گا، اس کے خلاف سخت تضبطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا اقدام یہ کیا گیا ہے کہ ٹیسٹ سے انکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں روک دی جائیں گی تاکہ ملازمین احکامات کی سختی سے پابندی کریں۔ محکمہ جاتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسی بھی ملازم کے خلاف ذاتی انتقام کی بنیاد پر نہیں بلکہ ادارے کے مجموعی مفاد اور میرٹ کی بالادستی کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام ملازمین کو مقررہ وقت کے اندر اس تشخیصی عمل سے گزرنا ہوگا اور جو لوگ اس میں ناکام رہیں گے یا بائیکاٹ کریں گے، انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سرکاری ملازمین میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں اصلاحات کے حامی اسے ایک ضروری قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں ملازمین کی بعض تنظیمیں اس فیصلے کے خلاف تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے فی الحال اپنے اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔