Health
اسٹیج فور کینسر کی مریضہ کی دس سال بعد حیرت انگیز بقا کی کہانی
کینسر کی ایک خطرناک ترین قسم اسٹیج فور کی تشخیص کے دس سال بعد بھی زندہ رہنے والی لینیٹ میک ہینڈری نے اپنی بقا کی طویل اور مشکل جنگ کی کہانی شیئر کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس مہلک بیماری کو شکست دینے پر خود کو انتہائی خوش قسمت سمجھتی ہیں۔
دس سال قبل جب لینیٹ میک ہینڈری کی عمر صرف سینتیس برس تھی، تو ڈاکٹروں نے انہیں چھاتی کے کینسر کی ایک انتہائی خطرناک اور جارحانہ قسم اسٹیج فور کی تشخیص سنائی۔ اس وقت یہ خبر ان کے لیے کسی پہاڑ جیسی تھی، کیونکہ اس مرحلے پر بیماری جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل چکی ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے امکانات انتہائی کم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، لینیٹ نے ہمت نہیں ہاری اور اس جان لیوا مرض کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے علاج کے تمام تکلیف دہ مراحل کا سامنا کیا، جن میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن سمیت متعدد سرجریز شامل تھیں۔ ان کے مطابق، یہ سفر جسمانی اور ذہنی دونوں لحاظ سے انتہائی اذیت ناک تھا، جہاں ہر گزرتا دن ایک نئے امتحان کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ آج ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی لینیٹ زندہ ہیں اور وہ نہ صرف اس بیماری کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے امید کی کرن بن چکی ہیں جو اس جان لیوا مرض کا شکار ہیں۔ لینیٹ میک ہینڈری کا کہنا ہے کہ وہ خود کو بے حد خوش قسمت محسوس کرتی ہیں کہ انہوں نے اس خطرناک اسٹیج فور کینسر کو شکست دی، جبکہ ان کے اردگرد اور ہسپتالوں میں بہت سے ایسے مریض بھی تھے جو اس موذی مرض کے خلاف جنگ ہار گئے اور زندگی کی بازی نہ جیت سکے۔ ان کا یہ حوصلہ افزا سفر طبی دنیا کے لیے بھی ایک معجزے کی حیثیت رکھتا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مضبوط ارادے، جدید طبی سہولیات اور بروقت تشخیص کی مدد سے کینسر جیسے موذی مرض کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ کہانی کینسر کے دیگر مریضوں کو نئی زندگی کی امید دلانے اور ان کے اندر جینے کی نئی امنگ پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔