LIVE
Loading Breaking News...

بی جے پی آئی ٹی سیل: دیپک مہاسکے نئے سربراہ مقرر، امیت مالویہ کو ہٹا دیا گیا

News Image
بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک اہم تنظیمی فیصلے کے تحت امیت مالویہ کو ہٹا کر دیپک مہاسکے کو نیا آئی ٹی سیل کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ دیپک مہاسکے کا تعلق اکیڈمک پس منظر سے ہے اور وہ انتخابی ڈیٹا کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی مرکزی تنظیم میں ایک بڑا اور اہم ردوبدل کرتے ہوئے پارٹی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے والے امیت مالویہ کی جگہ اب دیپک مہاسکے کو پارٹی کے نئے آئی ٹی سیل چیف کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی کا سوشل میڈیا اور آئی ٹی ونگ ال انتخابی مہمات میں کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ نئے مقرر ہونے والے آئی ٹی سیل چیف دیپک مہاسکے کا پس منظر روایتی سیاستدانوں سے کافی مختلف ہے۔ وہ پیشہ ورانہ طور پر کیمسٹری کے سابق پروفیسر رہ چکے ہیں اور تعلیمی میدان میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ انتخابی ڈیٹا کے تجزیے، زراعت اور بی جے پی کی نچلی سطح کی تنظیمی سرگرمیوں میں بھی گہری دلچسپی اور مہارت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کی سائنسی اور ڈیٹا پر مبنی سوچ پارٹی کی ڈیجیٹل حکمت عملی کو مزید نکھارنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ امیت مالویہ جو کہ پچھلے کئی سالوں سے بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے انچارج تھے، سوشل میڈیا پر پارٹی کے بیانیے کو تشکیل دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ان کے دور میں پارٹی کے ڈیجیٹل ونگ نے ملک بھر میں زبردست رسائی حاصل کی تھی۔ تاہم، اب پارٹی قیادت نے نئے چیلنجز سے نمٹنے اور انتخابی حکمت عملی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے دیپک مہاسکے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جو ڈیٹا کے تجزیے کی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، آنے والے دنوں میں دیپک مہاسکے کے سامنے پارٹی کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو مزید فعال بنانے اور سوشل میڈیا پر مخالفین کے بیانیے کا مؤثر جواب دینے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بیسڈ الیکشن مہمات کو چلانے کا بڑا چیلنج ہوگا۔ بی جے پی کی یہ نئی تقرری آنے والے انتخابات کے تناظر میں انتہائی معنی خیز سمجھی جا رہی ہے، جہاں ڈیجیٹل میڈیا جنگ کا میدان بن چکا ہے۔