World
انڈونیشیا زلزلہ: ہزاروں افراد بے گھر، امداد کی فراہمی میں مشکلات
انڈونیشیا کے مشرقی علاقے میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور امدادی سامان کی قلت نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ اس قدرتی آفت کے بعد بچوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
انڈونیشیا کے مشرقی علاقوں میں آنے والے ایک طاقتور اور ہلاکت خیز زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس قدرتی آفت نے ملک کی آزادی کی تقریبات کو بھی گہنا دیا ہے جبکہ زلزلے کے بعد کے جھٹکوں اور نقصانات نے عوام بالخصوص بچوں کے دلوں میں شدید خوف اور دہشت بٹھا دی ہے۔ مقامی حکام اور امدادی اداروں کے مطابق ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اب تک درجنوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ امدادی کارکنان ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے چلا رہے ہیں، لیکن رسائی کے مسائل کی وجہ سے امداد کی بروقت فراہمی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
اس کٹھن گھڑی میں عالمی برادری اور دوست ممالک کی جانب سے بھی انڈونیشیا کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کا سلسلہ جاری ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی انڈونیشیائی صدر کو تعزیت کا پیغام بھیجا ہے جس میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر متاثرہ علاقوں میں فوری اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں تیز نہ کی گئیں تو بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔