Technology
ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی طلب پر سیکیورٹی ڈپازٹ لازمی قرار
برطانوی ریگولیٹر نے اعلان کیا ہے کہ نئے ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کے لیے فی میگاواٹ بھاری فیس وصول کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو منظم کرنا اور توانائی کے وسائل کا منصفانہ استعمال یقینی بنانا ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی تناظر میں برطانوی توانائی کے ریگولیٹر نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نئے آنے والے ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے بھاری مالی ضمانت یا ڈپازٹ جمع کروانا ہوگی۔ ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق آئندہ آنے والے پروجیکٹس پر فی میگاواٹ ڈھائی لاکھ سے لے کر سات لاکھ پچاس ہزار برطانوی پاؤنڈ تک کی فیس عائد کی جا سکتی ہے، جو پاکستانی روپے میں کروڑوں بنتی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بجلی کے گرڈ پر بلاوجہ دباؤ نہ بڑھے اور صرف سنجیدہ نوعیت کے منصوبے ہی آگے بڑھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کو درکار توانائی کی مقدار عام شہروں کی کھپت کے برابر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بجلی کے انفراسٹرکچر پر شدید بوجھ پڑتا ہے۔ اس نئی فیس کے نفاذ سے نہ صرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نیٹ ورک کی بہتری کے لیے فنڈز ملیں گے بلکہ بجلی کے ضیاع کو بھی روکا جا سکے گا۔ ریگولیٹر کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کڑے ضابطے سے ان speculative یا فرضی منصوبوں کی حوصلہ شکنی ہوگی جو صرف عارضی طور پر بجلی کے حقوق محفوظ کر لیتے ہیں لیکن عملی طور پر کام شروع نہیں کرتے۔ اس فیصلے کے بعد تکنیکی اور کاروباری حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، تاہم حکومت اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد اسے گرڈ کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس پالیسی سے آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں آئیں گی اور توانائی کی بچت کے نئے رجحانات پروان چڑھیں گے۔