LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کے این ایچ ایس میں امریکی ٹیکنالوجی کی مداخلت اور اثرات

News Image
برطانیہ کا قومی صحت کا ادارہ (این ایچ ایس) اپنے ڈیجیٹل نظام کے لیے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے۔ اس صورتحال پر اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ برطانیہ اس غیر ملکی انحصار کو کہاں تک برداشت کرے گا۔
برطانیہ کا قومی صحت کا ادارہ یعنی این ایچ ایس (NHS) ہمیشہ سے برطانوی عوام کے لیے ایک عوامی اور مفت فلاحی نظام کی علامت رہا ہے، جو عالمگیر صحت کی دیکھ بھال کے اصولوں پر بنایا گیا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں کے دوران اس ادارے کا ڈیجیٹل اعصابی نظام امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی نے ماہرین اور عام شہریوں دونوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ایک سرکاری اور عوامی ادارے کو اس حد تک نجی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر منحصر ہونا چاہیے یا نہیں۔ امریک کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب این ایچ ایس کے روزمرہ کے امور، ڈیٹا کے انتظام اور مریضوں کے ریکارڈ کو دیجیتلائز کرنے کے عمل میں گہرائی تک داخل ہو چکی ہیں۔ ان کمپنیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، انتظار کے اوقات کو کم کرتی ہے اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب، ناقدین کا ماننا ہے کہ اس گہرے انحصار سے برطانوی صحت کے نظام کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے اور حساس طبی ڈیٹا کا کنٹرول غیر ملکی کارپوریشنز کے پاس چلا جاتا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ آیا یہ نئی ٹیکنالوجی موثر طریقے سے کام کرتی ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ برطانیہ اپنی طبی اور ڈیجیٹل سلامتی کے لیے امریکی ٹیک کمپنیوں پر کتنا انحصار کرنے کے لیے تیار ہے۔ جیسے جیسے این ایچ ایس مزید ڈیجیٹل ہوتا جا رہا ہے، حکومت کو اس بات کا توازن قائم کرنا ہوگا کہ عوامی مفاد اور بین الاقوامی کارپوریشنز کے مفادات میں کیسے ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ برطانوی عوام کا بنیادی صحت کا ڈھانچہ محفوظ رہ سکے۔