LIVE
Loading Breaking News...

سینس برِی کا اے آئی کیمروں کے استعمال پر بڑا فیصلہ

News Image
برطانوی سپر مارکیٹ چین سینس برِی نے ایک برانچ میں اے آئی کیمروں کا استعمال معطل کر دیا ہے۔ ایک کسٹمر کو غلطی سے چور سمجھ کر باہر نکالے جانے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ کی مشہور سپر مارکیٹ چین سینس برِی نے اپنی ایک برانچ میں لائیو فیشل ریکگنیشن یا چہرے کی شناخت کرنے والی اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک چالیس سالہ کسٹمر کو غلطی سے دکان کا چور سمجھ لیا گیا اور اسے زبردستی باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد صارفین کے حقوق اور پرائیویسی کے حوالے سے ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا خودکار نظام انسانی فیصلوں کا متبادل بن سکتے ہیں۔ متاثرہ شخص میٹ آرنلڈ کو اس واقعے کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ خریداری کے لیے برانچ میں داخل ہوئے تو اے آئی نظام نے انہیں کسی پرانے مشکوک شخص سے تشبیہ دی جس کی وجہ سے سکیورٹی عملے نے فوری طور پر قدم اٹھایا اور انہیں ہراساں کیا۔ بعد میں یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ ایک تکنیکی خرابی اور شناخت کی سنگین غلطی تھی جس کی وجہ سے ایک بے قصور شہری کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد سول سوسائٹی اور پرائیویسی کے عالمی اداروں نے اے آئی کیمروں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کو بغیر کسی جامع جانچ پڑتال اور قوانین کے نفاذ کے تجارتی مقامات پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ عام شہریوں کی ذاتی زندگی اور نقل و حرکت پر اس طرح کی نظر رکھنا انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔ عوام کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر سینس برِی نے فوری طور پر اس برانچ میں اے آئی کیمروں کا استعمال روک دیا ہے اور پورے معاملے کی داخلی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے تحفظ اور عزت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے تمام طریقوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔