Technology
ایپک پر ایچ ای آر ڈیٹا رسائی کے سلسلے میں وفاقی مسابقتی تحقیقات
صحت کے ریکارڈ فراہم کرنے والی معروف کمپنی ایپک کو الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے ڈیٹا تک رسائی کے تناظر میں وفاقی مسابقتی جانچ کا سامنا ہے۔ اس تحقیقات سے طبی شعبے میں ڈیٹا کے استعمال اور معاہدوں کی شرائط پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز (ایچ ای آر) کے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک ایپک کو اس وقت وفاقی مسابقتی اداروں کی طرف سے سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات اس بات پر مرکوز ہیں کہ کس طرح مریضوں کے طبی ڈیٹا تک رسائی کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور کیا موجودہ معاہدے منصفانہ مسابقت کے قوانین پر پورا اترتے ہیں۔ ہیلتھ کیئر انڈسٹری میں یہ ایک انتہائی حساس موضوع بن چکا ہے کیونکہ ہسپتالوں اور طبی اداروں کا ڈیٹا سسٹمز کے اندر مقفل ہوتا جا رہا ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہسپتالوں کے اپنے ایچ ای آر معاہدے پہلے ہی طے کر چکے ہوتے ہیں کہ مریضوں کے ریکارڈ تک کون اور کیسے رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر وفاقی مسابقتی جانچ کے نتیجے میں ان قوانین یا پالیسیوں میں تبدیلیاں لائی جاتی ہیں تو اس سے پورے سیکٹر میں ایک ہلچل مچ سکتی ہے۔ طبی اداروں کے چیف انفارمیشن افسران کو اب نئے معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے دیس بھر کے قوانین اور وینڈرز کی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیقات کے نتیجے میں نہ صرف ایپک بلکہ پورے ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں وینڈرز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی مالی اور قانونی حیثیت بدل سکتی ہے۔ اس سے اسپتالوں اور طبی مراکز کو اپنے مریضوں کے ڈیٹا تک زیادہ آزادانہ اور منصفانہ رسائی ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں وفاقی اداروں کی جانب سے اس حوالے سے مزید اقدامات متوقع ہیں جو ڈیجیٹل ہیلتھ کے مستقبل کی تشکیل کریں گے۔