Politics
انگلینڈ میں مرنے میں مدد کے قانون سے پہلے پیلی ایٹیو کیئر بہتر بنانے پر زور
برطانوی وزیراعظم یا اہم سیاسی شخصیات کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں مرنے میں مدد کے قانون کو قانونی شکل دینے کی نئی کوششوں سے قبل پبلک ہیلتھ اور پیلی ایٹیو کیئر کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں طبی ماہرین اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے گہرے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کی سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک بار پھر 'مرنے میں مدد' یعنی اسسٹڈ ڈائنگ کے متنازع اور حساس موضوع پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی قانون سازی سے پہلے طبی نظام کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص پیلی ایٹیو کیئر اور ہسپوس کی سہولیات کو مکمل طور پر درست اور مضبوط کرنا ازحد ضروری ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ جب تک مریضوں کو درد سے نجات اور تسکین کی معیاری دیکھ بھال مفت اور باآسانی میسر نہیں ہوتی، اس وقت تک اس قسم کے قوانین معاشرے میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اینڈی برہم کے حالیہ بیانات سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ وہ انگلینڈ اور ویلز میں مرنے میں مدد کے قانون کو قانونی شکل دینے کی کسی بھی نئی کوشش کی ذاتی طور پر حمایت کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت کو اپنی توجہ کا مرکز بنیادی طبی امداد اور بزرگوں یا لاعلاج مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔ دوسری جانب، اس مباحثے نے ملک بھر میں ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے جہاں انسانی حقوق کے کارکنان، ڈاکٹروں کی تنظیمیں اور عام شہری اس پر دو حصوں میں تقسیم دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طبقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ شدید تکلیف میں مبتلا افراد کو خود مختاری کا حق ملنا چاہیے، جبکہ دوسرا طبقہ کمزور اور بیمار طبقات کی حفاظت کے لیے سخت قوانین اور بہتر طبی سہولیات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس قانون پر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے، جس کا حتمی فیصلہ ملک کے پورے ہیلتھ کیئر سسٹم پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔