LIVE
Loading Breaking News...

ماسکو پر یوکرینی ڈرون حملہ، کئی افراد زخمی، روس یوکرین جنگ میں شدت

News Image
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے جہاں ماسکو پر ہونے والے ڈرون حملے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب روسی حملوں کے نتیجے میں خارکیف میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازعے میں ایک بار پھر خطرناک حد تک شدت آ گئی ہے، دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں پر انتہائی شدید اور ہلاکت خیز فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روس کے دارالحکومت ماسکو کے نواحی علاقے میں یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حملے کے بعد ماسکو کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور اہم تنصیبات کے گرد حفاظتی اقدامات کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوشش ہیں جن کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں بھی روسی افواج کی جانب سے شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خارکیف پر ہونے والے روسی میزائل اور فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ یوکرینی حکام نے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی پر ہونے والے ان حملوں کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ اس جنگ کی زد میں عام شہری آ رہے ہیں جنہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف حصوں میں روسی حملوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں یوکرین کی طرف سے روس پر اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن میں سیکڑوں کی تعداد میں ڈرون استعمال کیے گئے۔ روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ریکارڈ تعداد میں یوکرینی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے، تاہم اس کے باوجود کچھ ڈرونز اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے جن کی وجہ سے ماسکو کے علاقے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے فی الحال کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اور جنگ کا یہ خونریز سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔