LIVE
Loading Breaking News...

کُشنر اور نیتن یاہو کا حماس کی عسکری نگرانی امریکی جنرل سے کرانے پر اتفاق

News Image
ذرائع کے مطابق جیرڈ کُشنر اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حماس کی غیر عسکریائزیشن کی نگرانی ایک امریکی جنرل کو کرنی چاہئے۔ اس دوران عرب اور اسلامی ممالک نے غزہ کے معاملے پر اسرائیل کے رویے کی سخت مذمت کی ہے۔
واشنگتن اور تل ابیب کے درمیان سفارتی سطح پر ایک بار پھر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں جہاں حالیہ اطلاعات کے مطابق جیرڈ کُشنر اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کی غیر عسکریائزیشن یا اسلحے کے خاتمے کے عمل کی نگرانی کسی امریکی جنرل کے سپرد کی جانی چاہئے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مستقبل میں غزہ کے سکیورٹی ڈھانچے کو تشکیل دیا جانا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی کیونکہ سعودی عرب سمیت کئی اہم عرب اور اسلامی ممالک نے غزہ کے امن منصوبے کو مسترد کرنے کے اسرائیلی رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عرب لیگ اور آٹھ مسلم ممالک کے حالیہ مشترکہ بیانات میں اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ تنازع کے مستقل حل کے لیے بین الاقوامی اصولوں اور روڈ میپ پر من و عن عمل درآمد ناگزیر ہے۔ فلسطینی دھڑوں کی جانب سے بھی اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر مذاکرات کو طول دے رہا ہے اور جنگ بندی کے معاہدوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ دریں اثنا، بین الاقوامی سفارتی سطح پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ انسانی بحران سے دوچار غزہ کی پٹی میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور تمام فریقین کو مذاکراتی میز پر لایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس امریکی جنرل کی مجوزہ تقرری اور عرب ممالک کے ردعمل کے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔