Business
ٹرمپ انتظامیہ کرپٹو پالیسی خود بنائے گی، بل میں تعطل برقرار
امریکی کانگریس میں کرپٹو کرنسی سے متعلق بل کی منظوری میں تاخیر اور تعطل کے پیش نظر اب ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف ادارے خود ہی ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو پالیسی کی تشکیل کریں گے۔ اس صورتحال کے باعث ڈیجیٹل کرنسی انڈسٹری کو اپنے متوقع اور بھرپور مالی فوائد حاصل کرنے میں محدود حد تک ہی کامیابی مل سکے گی۔
امریکی سیاست اور معیشت میں ایک اہم موڑ پر، کانگریس کے اندر کرپٹو کرنسی سے متعلق قانون سازی کا عمل فی الحال تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ اس تعطل اور تاخیر کے بعد اب یہ طے پایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف ریگولیٹری ادارے خود ہی ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو پالیسی کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی ادارے خود ضابطہ اخلاق اور پالیسیاں تشکیل دیں گے جو اس صنعت کے مستقبل پر براہ راست اثر انداز ہوں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جامع قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری کو وہ تمام مالی اور انتظامی فوائد حاصل نہیں ہو سکیں گے جن کی امید سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے بڑے کھلاڑیوں کی جانب سے کی جا رہی تھی۔ دوسری جانب، صنعت سے وابستہ افراد اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ انتظامی اداروں کی جانب سے جاری کردہ پالیسیاں کاروبار کے لیے کتنی سازگار ثابت ہوں گی۔ ماضی میں ضوابط کی واضح کمی کی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا پائی جاتی تھی اور اب اداروں کے اس قدم سے جہاں کچھ حد تک استحکام کی توقع کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف سخت ریگولیشنز کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں امریکی مالیاتی منڈیوں میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے مزید اہم اعلانات متوقع ہیں۔