LIVE
Loading Breaking News...

سعودی ترکی پاکستان دفاعی معاہدہ، ٹرمپ کا خیرمقدم

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو ایک بڑا اور اہم قدم قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین طے پانے والے نئے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک بڑا، جرات مندانہ اور انتہائی اہم پہلا قدم قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے بالخصوص ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئی حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس دفاعی تعاون کو خطے میں سکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سہ فریقی معاہدے کے نتیجے میں خطے کے دفاعی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور اس سے اتحادی ممالک کے درمیان عسکری اور سٹریٹجک تعاون مزید مستحکم ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا، جس سے خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ دفاعی معاہدہ روایتی امریکی سکیورٹی چھتری کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اہم ممالک اب باہمی تعاون کے ذریعے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس معاہدے کے بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس حوالے سے بھی عالمی سطح پر مباحثے جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت مشترکہ عسکری مشقوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی پیداوار میں تعاون جیسے امور پر عملی پیشرفت متوقع ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔