LIVE
Loading Breaking News...

جعلی پیغام کے تبادلے پر وزیراعظم کا بیان سامنے آ گیا

News Image
وزیراعظم نے ایک جعلی پیغام کے تبادلے کے واقعے پر کھل کر بات کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر انہیں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ بات انہوں نے ایک ایسے شخص سے رابطے کے بعد کہی جو ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف آف سٹاف سوزی وائلز کے طور پر ظاہر ہو رہا تھا۔
وزیراعظم کی جانب سے حال ہی میں ایک ایسے واقعے پر ردعمل سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے نادانستہ طور پر ایک ایسے شخص سے مواصلت کی جو خود کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف آف سٹاف سوزی وائلز ظاہر کر رہا تھا۔ اس جعلی پیغام کے تبادلے کے بعد سیاسی اور سفارتی حلقوں میں چہگوئیاں شروع ہو گئی تھیں، تاہم وزیراعظم نے تمام صورتحال پر پرسکون انداز میں اپنا موقف واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ڈیجیٹل فراڈ یا جعلی پیغامات کا شکار بن جانا کوئی انہونی بات نہیں ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی شرمندگی محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سارا معاملہ اس وقت پیش آیا جب متعلقہ شخص نے انتہائی چالاکی کے ساتھ اعلیٰ سطحی شخصیت ہونے کا ڈھونگ رچایا اور وزیراعظم تک رسائی حاصل کی۔ جدید دور میں ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ہائی پروفائل شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کے حربے عام ہو چکے ہیں، جہاں دھوکہ باز جعلی شناخت استعمال کر کے اہم شخصیات کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر وزیراعظم کی جانب سے کھلے عام بات کرنا اور شرمندگی نہ ہونے کا اظہار کرنا ان کے پراعتماد رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جدید ڈیجیٹل دنیا میں اس قسم کے مسائل سے ہر رہنما کو واسطہ پڑ سکتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس سے کیا سبق سیکھا جائے۔ حکومت اس واقعے کے بعد اپنے مواصلاتی ذرائع اور سیکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کی جعلسازی کی گنجائش کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر رابطوں کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔