World
قطر کا ایران کے بے بنیاد دعووں پر سخت ردعمل
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں پائلٹوں کے لاپتہ ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی طیاروں نے قطر کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جن سے قانون کے مطابق نمٹا گیا۔
دوحہ: قطر نے ایران کی جانب سے لاپتہ ہونے والے پائلٹوں کے حوالے سے عائد کیے جانے والے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے بے بنیاد دعووں کی حقیقت سے کوئی وابستگی نہیں ہے اور حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ دوحہ کی طرف سے جاری کردہ اس بیان میں خطے کی موجودہ صورتحال اور فضائی حدود کی سکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان مجید الانصاری نے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی طیاروں نے نہ صرف یہ کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا بلکہ انہوں نے قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی بھی کی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس قسم کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کو قطلاً برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جاتا ہے۔ مجید الانصاری کا مزید کہنا تھا کہ قطر نے اپنی حدود میں داخل ہونے والے ان ایرانی طیاروں اور ان کی نقل و حرکت سے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ملکی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے نمٹا ہے۔ قطری حکومت نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود اور قومی سلامتی کے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتی ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت یا اشتعال انگیزی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس تمام صورتحال کے بعد خطے میں سفارتی سطح پر چہ مگوئیاں بڑھ گئی ہیں اور تجزیہ کار اسے دو طرفہ تعلقات میں ایک نیا تناؤ قرار دے رہے ہیں، تاہم قطر کے مؤقف نے اپنے دفاع میں اٹھائے گئے اقدامات کو قانونی اور آئینی دائرے میں ثابت کر دیا ہے۔