LIVE
Loading Breaking News...

میانمار میں روہنگیا بحران: شہریت کا خاتمہ اور عالمی عدالت میں مقدمہ

News Image
میانمار کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی شہریت ختم کیے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کا مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔
میانمار کی تاریخ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حکومتی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات نے ایک ایسے المے کو جنم دیا ہے جسے آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ برسوں کے دوران منظم طریقے سے روہنگیا آبادی کو ان کے بنیادی شہریت کے حقوق سے محروم کیا گیا، جس نے انہیں اپنے ہی ملک میں بے وطن کر کے رکھ دیا۔ سنہ 1982 کے شہریت کے متنازع قانون کے ذریعے روہنگیا اقلیت کو باضابطہ طور پر میانمار کے تسلیم شدہ نسلی گروہوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے لیے شہریت کے حصول کے تمام قانونی دروازے بند ہو گئے۔ اس ریاستی پالیسی کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کو شدید نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی، شادیوں، روزگار اور تعلیم کے حصول کو ناممکن بنادیا گیا اور صحت کی بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی کو محدود کر دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ امتیازی سلوک بڑے پیمانے پر پُرتشدد کارروائیوں اور فوجی کریک ڈاؤن میں تبدیل ہو گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا باشندوں کو اپنی آبائی زمین چھوڑ کر پڑوسی ممالک بالخصوص بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ جبری بے دخلی جدید تاریخ کے سب سے بڑے انسانی نقل مکانی کے بحرانوں میں سے ایک ہے۔ اس طویل المیے کے بعد بین الاقوامی سطح پر میانمار کی حکومت کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا۔ گیمبیا جیسے ممالک کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں میانمار پر روہنگیا اقلیت کے خلاف نسل کشی کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔ اس قانونی چارہ جوئی کا مقصد ریاستی سطح پر کیے جانے والے مظالم کو آشکار کرنا اور متاثرہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ میانمار میں روہنگیا بحران کے دیرپا حل کے لیے انہیں ان کے تمام شہری حقوق اور وقار کے ساتھ واپسی کا حق دیا جائے۔