Politics
بھارتی نوجوانوں کے احتجاج: بی جے پی رہنما کی بیٹی کی حمایت
بی جے پی کے ایک سیاستدان کی بیٹی یشسوینی راجے سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کیوں بھارت کے طلباء اور نوجوانوں کی تحریک کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نوجوانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
بھارتی سیاست میں اس وقت ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب برسرِ اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان کی بیٹی نے کھل کر ملک بھر میں جاری طلباء اور نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ یشسوینی راجے سنگھ نامی اس نوجوان شخصیت نے معروف عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا اور بتایا کہ وہ کیوں اس تحریک کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کا ملک کے سیاسی اور سماجی مستقبل میں ایک اہم کردار ہے اور ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
یسہوینی راجے سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ طلباء اور نوجوان اپنے جائز مطالبات اور مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، جو کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ان کا بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق، اختلافِ رائے کو غداری یا ملک دشمنی قرار دینے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک باشعور نوجوان نسل ہی ملک کو آگے لے جا سکتی ہے اور ان کے مسائل کو نظر انداز کرنا طویل مدت میں قومی مفاد میں نہیں ہوگا۔
اس انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد بھارتی سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ ایک حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے خاندان کی طرف سے اس قسم کا مؤقف آنا انتہائی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یشسوینی راجے سنگھ کے اس انٹرویو پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں ایک طرف ان کی جرات کی تعریف کی جا رہی ہے تو دوسری طرف سیاسی حلقوں میں اس پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس بیان سے نوجوانوں کی تحریک کو مزید تقویت ملے گی اور حکومتی پالیسیوں پر بحث کا دائرہ وسیع ہوگا۔