LIVE
Loading Breaking News...

حافظ نعیم الرحمٰن کا نئے صوبوں کے معاملے پر اہم بیان اور انتباہ

News Image
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے نام پر ملک میں نسلی اور لسانی بنیادوں پر تفریق پیدا کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انتظامی بہتری کے نام پر معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے حالیہ دنوں ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے موضوع پر جاری بحث کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے کو لسانی اور نسلی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی بہتری اور عوامی فلاح کے نام پر ملک کے اندرونی امن اور بھائی چارے کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حلقوں میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر مباحثے جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو اس وقت شدید معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے اجتماعی سوچ اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے معاملات کی جن سے معاشرتی تانے بانے کمزور ہوں۔ جماعت اسلامی کے قائد نے زور دیا کہ آئینی دائرہ کار اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھے بغیر اٹھائے جانے والے اقدامات ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی سلامتی اور عوام کے اتحاد کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تشکیل کا مقصد عوام کی خدمت اور سہولت ہونا چاہیے نہ کہ اس کے ذریعے تعصبات کو ہوا دی جائے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی سالمیت، یکجہتی اور آئین کی بالادستی کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہے گی اور کسی بھی ایسے اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی جو قوم کو بانٹنے کا باعث بنے۔