LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ: غزہ میں صرف تین فیصد زرعی زمین محفوظ

News Image
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری محاصرے اور تنازعے کی وجہ سے زرعی زمینوں کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور صرف 3 فیصد زمین کاشت کے قابل اور محفوظ بچی ہے۔ اس صورتحال نے محصور علاقے میں غذائی قلت کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے فلاحی اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری شدید تنازعے اور بمباری کے نتیجے میں زراعت اور خوراک کی پیداوار کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، محصور علاقے میں اب صرف 3 فیصد زرعی زمین ایسی بچی ہے جو قابلِ رسائی بھی ہے اور کسی قسم کے نقصان سے محفوظ ہے۔ باقی ماندہ تمام زرعی رقبہ یا تو بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے یا پھر فوجی کارروائیوں اور حفاظتی پابندیوں کی وجہ سے کسانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہ صورتحال اس خطے کے لیے ایک انتہائی تشویشناک اشارہ ہے جہاں پہلے ہی غذائی فراہمی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی زمینوں اور گرین ہاؤسز کی اس وسیع پیمانے پر تباہی نے مقامی آبادی کے لیے خوراک کی خود کفالت کے تمام ذرائع مسدود کر دیے ہیں۔ غزہ کے کسان اور زمیندار اپنی روزی روٹی اور زمینوں سے محروم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے بنیادی غذائی اجناس کی درآمدات پر انحصار حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ تاہم، سرحدی ناکہ بندی اور امدادی سامان کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے غذائی قلت کا بحران روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے اور بالخصوص بچوں اور خواتین میں غذائی کمی کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ بین الاقوامی اداروں نے عالمی برادری اور بااثر ممالک سے فوری طور پر مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ امدادی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی اور زرعی اور خوراک کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا کام شروع نہ کیا گیا، تو آنے والے دنوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔