Technology
مائیکل بیری کا مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں نئے مالیاتی بحران کا انتباہ
فلم 'دی بگ شارٹ' سے شہرت پانے والے سرمایہ کار مائیکل بیری نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر 3 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اتنی بڑی سرمایہ کاری معیشت میں کسی بڑے خطرے یا بلبلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
معروف اور لیجنڈری سرمایہ کار مائیکل بیری، جنہیں فلم 'دی بگ شارٹ' کے ذریعے عالمی شہرت ملی، نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری مالیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے سابقہ انتباہات کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔ ان کا یہ تازہ ترین بیان ایک ایسی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 3 ٹریلین ڈالر کے مالیاتی وعدے اور انتظامات کیے ہیں۔
مائیکل بیری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ بھاری بھرکم اور غیر اعدادی ذمہ داریاں اس بات کی علامت ہو سکتی ہیں کہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ اور بے تحاشا سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ٹیکنالوجی کے کسی نئے شعبے میں اس پیمانے پر بے لگام سرمایہ کاری کی جاتی ہے، تو وہ بالآخر ایک ایسے مالیاتی بلبلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو پھٹنے کے بعد پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس وقت جنریٹو اے آئی اور اس سے متعلقہ ہارڈ ویئر پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہیں تاکہ مارکیٹ میں سبقت حاصل کی جا سکے، لیکن طویل مدت میں اس کے منافع بخش ہونے کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔ مائیکل بیری کا شمار ان با اثر سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے 2008 کے ہاؤسنگ مارکیٹ کے بحران کی پیشگوئی بہت پہلے کر دی تھی، اور ان کا یہ حالیہ انتباہ وال سٹریٹ اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔