Sports
فیفا ورلڈ کپ پلان: امریکی اور ایشیائی کنفیڈریشنز کی شدید تنقید
فیفا کے پرائیویٹ انویسٹمنٹ پلان میں طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلے کرنے پر امریکی اور ایشیائی فٹ بال فیڈریشنز نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں کنفیڈریشنز کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اہم منصوبوں میں شفافیت اور مشاورت کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔
عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا کی جانب سے لائے گئے نئے ورلڈ کپ پلان نے فٹ بال کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکہ کی گورننگ باڈی نے اس منصوبے میں طریقہ کار کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایشین فٹ بال کانفیڈریشن (اے ایف سی) نے بھی اس صورتحال پر اپنی شدید ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ ان کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اہم مالی اور انتظامی فیصلے تمام فریقین کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کیے جانے چاہئے۔ فیفا کی جانب سے حال ہی میں پرائیویٹ انویسٹمنٹ اور ٹورنامنٹ کی ساخت سے متعلق کچھ تجاویز سامنے آئی تھیں، جن پر رکن ممالک کی جانب سے اب تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ فٹ بال کے عالمی کیلنڈر اور فنڈز کی تقسیم جیسے حساس معاملات پر یکطرفہ فیصلوں کے بجائے تمام براعظمی کنفیڈریشنز کے ساتھ تفصیلی مشاورت ہونی چاہئے۔ اس تنازع کے بعد فیفا کے اندرونی طریقہ کار اور پالیسی سازی پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب، ایشین فٹ بال کانفیڈریشن نے بھی اس پیشرفت کو مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایشیا میں فٹ بال کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر فیفا نے جلد از جلد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو دور نہ کیا، تو عالمی سطح پر فٹ بال کے اداروں کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ فیفا کے اعلیٰ حکام کو اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بات چیت کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ عالمی فٹ بال کے اتحاد کو برقرار رکھا جا سکے۔