LIVE
Loading Breaking News...

وزارت صحت کے ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ لازمی قرار

News Image
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کا افتتاح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو ملازم ٹیسٹ نہیں کرائے گا اسے تنخواہ جاری نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کے ٹیسٹ کی سترہ سہولیات قائم کر دی گئی ہیں اور گلگت بلتستان میں بھی اسکریننگ کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایک انتہائی سخت اور اہم فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وزارت صحت کے تمام ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور جو ملازم اس بیماری کا ٹیسٹ نہیں کروائے گا، اسے تنخواہ جاری نہیں کی جائے گی۔ حکومت ملک بھر سے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے انتہائی سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور ابتدا سرکاری ملازمین سے کی جا رہی ہے۔ تقریب کے دوران وزیر صحت نے مزید بتایا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں شہریوں اور ملازمین کی سہولت کے لیے ہیپاٹائٹس سی کے ٹیسٹ کی سترہ نئی سہولیات قائم کر دی گئی ہیں۔ ان مراکز پر جدید آلات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام میں اس خاموش قاتل بیماری کی تشخیص کو عام کرنا اور مریضوں کو ابتدائیمراحل میں ہی علاج کی طرف لے کر آنا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے اپنے خطاب میں یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے بعد اسکریننگ مہم کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بھی بڑھایا جائے گا تاکہ وہاں کے دور دراز علاقوں کے باسی بھی اس اہم صحت کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہیپاٹائٹس سی کے تصدیق شدہ مریضوں کو حکومت کی جانب سے مفت اور معیاری ادویات فراہم کی جائیں گی تاکہ اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔