LIVE
Loading Breaking News...

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر فرانسیسی خاتون کی پہلی تاریخی خلائی چہل قدمی

News Image
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تاریخ میں پہلی بار کسی فرانسیسی خاتون خلاء نورد نے خلائی چہل قدمی انجام دے کر ایک نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔ اس اہم ترین سائنسی اور خلائی مشن نے فرانس اور پوری دنیا کے لیے ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے عملے نے خلائی تاریخ کا ایک اور شاندار باب رقم کر دیا ہے جہاں ایک فرانسیسی خاتون خلاء نورد نے کامیابی کے ساتھ اپنی پہلی خلائی چہل قدمی (spacewalk) مکمل کی ہے۔ یہ خلائی سفر اور تحقیق کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل سمجھا جا رہا ہے جس نے فرانسیسی خلائی تاریخ کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ اس تاریخی کارنامے کے بعد دنیا بھر میں سائنسی حلقوں کی جانب سے مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے خواتین کے لیے خلاء بازی کے شعبے میں ایک اہم ترین پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ خلائی اسٹیشن سے باہر خلاء کی لاامتناہی وسعتوں میں کیا جانے والا یہ کام انتہائی خطرناک اور تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ ہوتا ہے۔ فرانسیسی خلاء نورد نے اس چہل قدمی کے دوران خلائی اسٹیشن کے بیرونی حصوں کی مرمت، دیکھ بھال اور نئے سائنسی آلات کی تنصیب کے فرائض سر انجام دیے۔ اس دوران زمین پر موجود خلائی مرکز کے ماہرین مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں رہے اور تمام سرگرمیوں کو کیمروں کی مدد سے مانیٹر کیا گیا۔ مشن کے دوران حفاظتی تدابیر کا خاص خیال رکھا گیا تاکہ خلاء نورد کو کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی فرانس ان چند چوٹی کے ممالک کی صف میں مزید نمایاں ہو گیا ہے جن کے خلاء نوردوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر کھلی خلاء میں چہل قدمی کے فرائض کامیابی سے انجام دیے ہیں۔ سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے پیچیدہ خلائی مشنز نہ صرف خلائی اسٹیشن کی عمر اور کارکردگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ مستقبل کے طویل المدتی خلائی سفر اور چاند یا مریخ پر جانے والے مشنز کے لیے بھی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس تاریخی لمحے نے پوری دنیا بالخصوص فرانس میں نوجوان نسل بالخصوص طالب علموں اور سائنس سے دلچسپی رکھنے والی خواتین میں ایک نئی امنگ پیدا کر دی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس خلائی مشن کے مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور خلائی تحقیق کے میدان میں بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ ملے گا، جس سے کائنات کے اسرار کو سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔