Business
نکی انڈیکس میں تیزی، اے آئی شیئرز کی بدولت ہندسہ 69 ہزار سے تجاوز
ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ میں کمزور معاشی شرح نمو کے باوجود مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر حصص کی خریداری کے باعث نکی 225 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس تیزی کے بعد نکی انڈیکس 69 ہزار کی اہم حد عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ میں 17 اگست کو نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی جہاں نکی 225 انڈیکس 506.45 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 69,220.25 پر بند ہوا۔ یہ ریکوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں کمزور معاشی شرح نمو، بڑھتی ہوئی بانڈ ییلڈز اور دیگر مالیاتی خدشات کے باعث سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جا رہی تھی۔ تاہم، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر سے وابستہ حصص میں زبردست خریداری نے تمام منفی عوامل کے اثرات کو زائل کر دیا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق، عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور اس سے وابستہ کمپنیوں کی شاندار کارکردگی نے جاپانی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں ہونے والی بڑی سرمایہ کاری نے انڈیکس کو سہارا دیا اور کمزور جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے باوجود مارکیٹ کو مثبت زون میں رکھنے میں کامیاب رہی۔ بانڈز کی بڑھتی ہوئی شرح سود اور دیگر معاشی چیلنجز کے باوجود ٹیکنالوجی کے شعبے کی یہ کارکردگی خوش آئند قرار دی جا رہی ہے۔
اس تیزی کے نتیجے میں کاروباری حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پرامید نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معاشی حالات اور شرح سود میں اتار چڑھاؤ کے باعث محتاط رہنے کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ رجحان اس بات کا غماز ہے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے طویل مدت میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھیں گے کہ آیا یہ مثبت رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر کے شیئرز میں خرید و فروخت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ٹوکیو مارکیٹ مزید بلند سطح کو چھو سکتی ہے، جس سے مجموعی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔