LIVE
Loading Breaking News...

ماوَرکس کا نیویارک کوئর্কز ایونٹ میں مصنوعی ذہانت اور انسانی شواہد پر اہم خطاب

News Image
عالمی ڈیٹا اور ریسرچ کمپنی ماوَرکس نے نیویارک میں منعقدہ کوئর্কز ایونٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی شواہد کی اہمیت انتہائی بڑھ گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق درست تحقیق کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل اعتماد انسانی ڈیٹا ناگزیر ہے۔
نیویارک میں منعقد ہونے والے معروف کوئর্কز ایونٹ (The Quirk's Event New York) کے دوران عالمی ڈیٹا اور ریسرچ ایکوزیشن کمپنی ماوَرکس (Mavrix) نے بطور پلاٹینم اسپانسر شرکت کی اور ریسرچ انڈسٹری کے بدلتے ہوئے منظر نامے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں جب مصنوعی ذہانت (AI) تمام شعبوں میں تیزی سے داخل ہو رہی ہے، تو درست اور قابل اعتماد فیصلوں کے لیے انسانی شواہد کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایونٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ماوَرکس کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف الگورتھمز اور آٹومیشن پر انحصار کافی نہیں ہے بلکہ مستند اور زمینی حقائق پر مبنی انسانی ڈیٹا ہی تحقیق کی بنیاد بننا چاہیے۔ جدید دور میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے مارکیٹ ریسرچ کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ بہت سی کمپنیاں اپنے فیصلوں کے لیے مکمل طور پر اے آئی ٹولز پر انحصار کر رہی ہیں، تاہم ماوَرکس نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے بعض اوقات معلومات میں خلا یا تعصب پیدا ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے اپنے تحقیقی سشنز میں بتایا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کی رفتار اور انسانی بصیرت کا بہترین امتزاج ریسرچ کے نتائج کو زیادہ درست اور قابل اعتبار بنا سکتا ہے۔ انسانی شواہد اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ڈیٹا کے پیچھے موجود جذبات، ثقافتی تناظر اور حقیقی انسانی رویوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ کوئর্কز ایونٹ میں صنعت کے ماہرین، محققین اور کاروباری رہنماؤں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جہاں ماوَرکس کے اس مؤقف کو بے حد سراہا گیا۔ شرکاء کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ مستقبل کا ریسرچ ماڈل ہائبرڈ ہونا چاہیے، جہاں ٹیکنالوجی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کو تیز کرے جبکہ انسانی مائنڈ سیٹ اس کی تشریح اور تصدیق کرے۔ اس موقع پر ماوَرکس نے اپنی جدید ترین ڈیٹا ایکوزیشن کی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا جو دنیا بھر کے کلائنٹس کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اختتامی سشنز میں ماوَرکس کے عہدیداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے شعبے میں شفافیت، اعتبار اور جدت کے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ اے آئی کے اس دور میں جہاں غلط معلومات کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے، قابل اعتماد انسانی شواہد پر مبنی تحقیق ہی صنعت کو درست سمت فراہم کر سکتی ہے۔ نیویارک کا یہ ایونٹ دنیا بھر کے محققین کے لیے ایک بہترین پلی ثابت ہوا جہاں انہوں نے ٹیکنالوجی اور انسانی ذہانت کے درمیان توازن قائم کرنے کے نئے طریقوں پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔