LIVE
Loading Breaking News...

ناروے کا فنڈ: مصنوعی ذہانت کے اسٹاک بلبلے پر انتباہ

News Image
ناروے کے عالمی شہرت یافتہ دولت فنڈ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر اسٹاک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مارکیٹ میں کسی بڑی گراوٹ کی وجہ بن سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے خودمختار دولت فنڈ کے سربراہ نے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک خطرناک معاشی بلبلے کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مستقبل قریب میں مارکیٹ میں ایک شدید مندی یا اصلاحی عمل دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا بھر سے بے پناہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، تاہم ماہرین اس تیزی کے پائیدار ہونے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناروے کا یہ فنڈ جو کہ دنیا کا سب سے بڑا خودمختار مالیاتی ادارہ ہے، عالمی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں کا گہرا جائزہ لے رہا ہے۔ فنڈ کی قیادت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں حد سے زیادہ جوش و خروش بعض اوقات حقیقی بنیادوں سے ہٹ کر ہوتا ہے، جو بعد میں سرمایہ کاروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت نے معیشت اور پیداور میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، لیکن اس کی مارکیٹ ویلیو کے بارے میں احتیاط برتنے کی اشد ضرورت ہے۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اچانک کمی واقع ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا کی مالیاتی منڈیوں پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا یہ سب سے بڑا فنڈ اب اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ مارکیٹ کے کسی بھی ممکنہ زوال سے بچنے کے لیے اپنے اثاثہ جات کو کس طرح محفوظ بنایا جائے۔ حالیہ انتباہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مالیاتی ادارے اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کو لے کر محتاط ہوتے جا رہے ہیں اور وہ آنے والے وقتوں میں کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔