Business
ناروے ویلتھ فنڈ کا اسٹاک مارکیٹ کے خطرات پر انتباہ
ناروے کے عالمی سطح پر سب سے بڑے خودمختار ویلتھ فنڈ کے سربراہ نے موجودہ اسٹاک مارکیٹوں میں پائے جانے والے خطرات کے حوالے سے خبردار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت میں بڑی سرمایہ کاری سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ناروے کے سب سے بڑے خودمختار ویلتھ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نکولائی ٹینجن نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور مالیاتی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور ماہرین کی طرح ناروے کا یہ فنڈ بھی عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
نکولائی ٹینجن نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں کی جانے والی بے پناہ اور تیز رفتار سرمایہ کاری کے بھی اپنے خطرات ہیں۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی یہ نئی لہر دنیا بھر میں معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول رہی ہے، تاہم اس کے ممکنہ منفی اثرات اور مارکیٹ کے بلبلے پھٹنے کا خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ فنڈ کے سربراہ کے مطابق، اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز کی تعیناتی اور غیر یقینی رجحانات مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ناروے کا یہ خودمختار ویلتھ فنڈ دنیا کا سب سے بڑا فنڈ مانا جاتا ہے، جس کی سرمایہ کاری دنیا بھر کی متعدد بڑی کمپنیوں اور اسٹاک مارکیٹوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس فنڈ کی پالیسیاں اور بیانات بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حالیہ انتباہ کو سرمایہ کاروں اور معاشی تجزیہ کاروں کی طرف سے انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت بچا جا سکے۔