Technology
چین میں صنعت اور یونیورسٹی کے اشتراکی نظام کی کارکردگی پر تحقیق
ایک نئے مطالعے میں چین کے صنعت، یونیورسٹی اور تحقیق کے اشتراکی نوآبادیاتی نظام کی کارکردگی کا جائزہ دو مرحلہ وار گیم ماڈل کے ذریعے لیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے شاپلے ویلیو کے اصولوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
چین میں صنعت، یونیورسٹی اور تحقیق کے اشتراکی نوآبادیاتی نظام (IURCI) کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اہم مطالعہ سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق میں دو مرحلہ وار گیم کراس ایسیڈنسی ماڈل کا استعمال کیا گیا ہے جس میں شاپلے ویلیو (Shapley value) کو بھی مربوط کیا گیا ہے۔ اس جدید طریقے کار کا مقصد تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور تحقیقی نتائج کو عملی میدان میں لانے کی رفتار کا جائزہ لینا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نظام کے تحت مختلف شراکت داروں کے درمیان کارکردگی کے توازن کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔
تحقیق کے دوران محققین نے ایک جامع تشخیصی انڈیکس سسٹم تشکیل دیا ہے جو اشتراکی عمل کے مختلف مراحل کا احاطہ کرتا ہے۔ جدید اقتصادی اور تکنیکی دور میں کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے صنعت اور جامعات کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ چین میں اس حوالے سے پہلے ہی کئی اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم اس تازہ مطالعے سے ان پالیسیوں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک نیا سائنسی پیمانہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ کس طرح مختلف ادارے مشترکہ وسائل اور معلومات سے بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
شاپلے ویلیو کا انضمام اس ماڈل کی ایک نمایاں خصوصیت ہے، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر شراکت دار کی کارکردگی اور حصے کا منصفانہ انداز میں تعین کیا جا سکے۔ اس طریقہ کار کی مدد سے اشتراکی عمل میں موجود کمزوریوں اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج سے نہ صرف چینی معیشت اور صنعتی شعبے کو فائدہ پہنچے گا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ فراہم ہوگا۔
حکومتی اور تعلیمی حلقوں میں اس تحقیق کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ مستقبل کی پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے عالمی سطح پر مسابقت بڑھ رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیقات کو براہ راست صنعتوں تک پہنچانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس مطالعے کی سفارشات کی روشنی میں چین اپنے نوآبادیاتی نظام کو مزید مستحکم کرے گا اور عالمی سطح پر اپنی برتری کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگا۔