World
ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی، ایران جنگ پر امریکیوں کی تشویش
تازہ ترین آراء عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ ان کے دوسرے صدارتی دور کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ سروے میں شامل اسی فیصد شہریوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اور جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
امریکہ کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو شدید دھچکا لگا ہے اور حالیہ آراء عامہ کے جائزوں کے مطابق ان کی ریٹنگ ان کے دوسرے صدارتی دور کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ روئٹرز اور ایپساس کے مشترکہ پول کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر تینتیس فیصد تک گر چکی ہے، جسے ان کے صدارتی دور کا بدترین درجہ حرارت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان اور عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات شامل ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹرز خود کو اس دور میں زیادہ کسمپرس اور معاشی دباؤ کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی امریکی عوام کے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سروے میں حصہ لینے والے لگ بھگ اسی فیصد ووٹرز کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ تنازعہ اور کشیدگی ایک طویل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ امریکی شہریوں میں اس بات کا شدید خوف پایا جاتا ہے کہ یہ کشیدگی نہ صرف خطے کے امن کو تباہ کرے گی بلکہ اس کے براہ راست اثرات امریکی معیشت اور عام زندگی پر بھی طویل عرصے تک مرتب ہوں گے۔
فنانشل ٹائمز اور دیگر معتبر عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بھی اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ اکثریت امریکی ووٹرز کا یہ خیال ہے کہ وہ موجودہ انتظامیہ کے دوران معاشی طور پر زیادہ غیر محفوظ اور بدتر حالت میں ہیں۔ مہنگائی کے اس بحران نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے گھریلو سطح پر مشکلات مزید بڑھا دی ہیں، جہاں عوام روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
ان تمام چیلنجز کے تناظر میں، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صدر ٹرمپ کے لیے ملکی سیاست اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ایک بہت بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ ایران جنگ کے طویل ہونے کے خدشات اور معاشی دباؤ نے وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، اور اگر انتظامیہ نے بروقت موثر اقدامات نہ کیے تو سیاسی حمایت میں یہ کمی ان کے آئندہ کے سیاسی عزائم کو بھی بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔