LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں کشیدگی: حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی تیز

News Image
یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مختلف محاذوں پر شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ کشیدگی میں اس اضافے کے بعد ملک میں امن عمل اور آئندہ کے سیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یمن میں ایک بار پھر عسکری کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان مختلف محاذوں پر شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان ملک کے کئی حصوں میں مورچہ بندیاں اور مسلح تصادم شدت اختیار کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی بحران کے مزید گھمبیر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں حملوں کا یہ سلسلہ اس بات کا غماز ہے کہ فریقین کے درمیان سیاسی حل کی کوششیں فی الحال پس منظر میں چلی گئی ہیں اور طاقت کا استعمال ایک بار پھر ترجیح بن گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں ملکی سلامتی کی بحالی اور حوثیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے بھی سرکاری افواج کے خلاف اپنے دفاع اور جوابی کارروائیوں کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے سے عام شہریوں کی مشکلات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو لاکھوں مزید افراد کو غذایی قلت اور طبی سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی اور علاقائی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک طویل عرصے سے مصالحتی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم زمینی سطح پر بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں نے ان سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جنگ کا یہ نیا باب یمن کو ایک اور طویل اور تباہ کن خونریز دور میں دھکیل سکتا ہے۔