LIVE
Loading Breaking News...

محکمہ تعلیم پر سائبر حملہ اور ڈیٹا کی چوری

News Image
برطانیہ کے محکمہ تعلیم کو ایک بڑے سایبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں حساس ریکارڈز چوری ہو گئے ہیں۔ متعلقہ ادارے قومی سلامتی کے مراکز کے ساتھ مل کر اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ تعلیم (ڈی ایف ای) کو ایک سنگین نوعیت کے سایبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے دوران حملہ آور کم از کم چھ لاکھ سات ہزار ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سیکیورٹی خلاف ورزی نے حکومتی اداروں میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ تعلیمی شعبے کا یہ ڈیٹا انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ نظام کی مزید حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور چوری شدہ ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ محکمہ تعلیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حملے کی سنگین نوعیت کے پیش نظر تمام حفاظتی اقدامات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ہیکرز نے سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بڑی کامیابی حاصل کی۔ سایبر سیکیورٹی کے ماہرین اس حملے کے پیچھے کارفرما گروہوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کارروائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک کے اعلیٰ ترین اداروں کو اس تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ قومی سایبر سیکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) اور نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ انتہائی قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے۔ ان دونوں اداروں کے ماہرین ڈیجیٹل فارنزک کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیکیورٹی حصار میں خامی کہاں پیدا ہوئی تھی۔ حکام کا عزم ہے کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مزید برآں، متاثرہ افراد اور اداروں کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ بھی ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری اور تعلیمی اداروں کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے حملے روکنے کے لیے مزید سرمایہ کاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔