LIVE
Loading Breaking News...

عالمی سیاحتی لچک اور بحالی سے متعلق ٹورائز اور آکسفورڈ اکنامکس کی نئی رپورٹ

News Image
ریاض میں جاری ہونے والی نئی رپورٹ کے مطابق خطرات کا سامنا کرنے والی سیاحتی منزلیں معمول پر آنے میں ڈیڑھ گنا تیزی سے بحال ہو سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر بحالی کا دورانیہ 24 ماہ سے کم ہو کر اب صرف 10 ماہ تک رہ گیا ہے۔
ریاض، سعودی عرب میں 'ٹورائز' (TOURISE) نے 'آکسفورڈ اکنامکس' (Oxford Economics) کے اشتراک سے سیاحت کی لچک کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جامع عالمی رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ نئی تجزیاتی رپورٹ اس امر پر روشنی ڈالتی ہے کہ موجودہ دور میں جب دنیا کو مستقل نوعیت کے چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، تو سیاحتی صنعتیں کس طرح زیادہ مضبوطی اور پائیداری کے ساتھ ابھر سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ تمام سیاحتی مقامات اور منزلیں جو خطرات کو پہلے سے مدنظر رکھتی ہیں اور ان کا بروقت مقابلہ کرتی ہیں، وہ بحران کے بعد ڈیڑھ گنا زیادہ تیزی سے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق نے عالمی سطح پر سیاحتی صنعت کے لیے ایک نئی امید کی کرن پیدا کی ہے اور پالیسی سازوں کو اہم حکمت عملی فراہم کی ہے۔ رپورٹ میں سب سے نمایاں انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سیاحتی مقامات کی بحالی کا اوسط دورانیہ جو پہلے 24 ماہ تک محیط ہوتا تھا، اب کم ہو کر محض 10 ماہ تک رہ گیا ہے۔ یہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اور سیاحتی ادارے اب ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور بحران کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتر ڈیٹا مینجمنٹ اور بروقت حکومتی اقدامات کی وجہ سے یہ تیزی ممکن ہو سکی ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج عالمی سیاحت کی بحالی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ریاض میں منعقدہ تقریب کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں آنے والے کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے سیاحتی شعبے کو مزید لچکدار بنانا ہوگا۔ روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے اور جدید خطوط پر سوچنا ہوگا تاکہ مسافروں اور صنعت سے وابستہ افراد کا اعتماد بحال رہے۔ ٹورائز اور آکسفورڈ اکنامکس کا یہ مشترکہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعاون اور درست سمت میں کیے گئے تجزیات کس طرح پوری دنیا کی معیشت اور خاص طور پر سیاحت کے شعبے کو سنبھارا دے سکتے ہیں۔