World
کینیڈا میں لتیم آئن بیٹریوں کی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور نئے ضوابط
کینیڈا بھر میں ای بائکس اور اسکوٹرز میں استعمال ہونے والی لتیم آئن بیٹریوں سے لگنے والے آتشزدگی کے واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
کینیڈا کے مختلف شہروں میں لتیم آئن بیٹریوں سے لگنے والی آگ کے واقعات میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے فائر حکام اور ضابطہ کار اداروں کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ یہ بیٹریاں آج کل ہمارے روزمرہ استعمال کی درجنوں اشیاء بشمول الیکٹرک بائیکس، اسکوٹرز، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں، لیکن ان کی غیر محتاط دیکھ بھال اور ناقص چارجنگ اب ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ وینکوور، ٹورانٹو اور کلگری سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں کے فائر ڈیپارٹمنٹس نے حالیہ ہفتوں میں شہریوں کے لیے خصوصی انتباہات جاری کیے ہیں جن میں حفاظتی تدابیر اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق لتیم آئن بیٹریوں میں آگ لگنے کی بنیادی وجوہات میں زیادہ چارجنگ، غیر معیاری چارجرز کا استعمال، بیٹریوں کو شدید گرمی یا سردی میں رکھنا اور ان پر جسمانی دباؤ یا نقصان پہنچنا شامل ہیں۔ جب یہ بیٹریاں ناکارہ ہوتی ہیں یا ان میں شارٹ سرکٹ ہوتا ہے تو ان سے نکلنے والی حرارت اور زہریلی گیسیں تیزی سے شعلوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں جن پر قابو پانا عام فائر فائٹنگ کے طریقوں سے کافی مشکل ہوتا ہے۔ کینیڈا کے فائر فائٹرز کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی آگ انتہائی تیزی سے پھیلتی ہے اور بند کمروں یا گھروں کے اندر یہ انسانی جان اور املاک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے اب حکومتی سطح پر سخت ضوابط اور قوانین بنانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مارکیٹ میں آنے والی بیٹریوں اور ان کے لوازمات کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح درآمد شدہ الیکٹرانک آلات اور بیٹریوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور صارفین کے لیے آگ سے بچاؤ کی رہنما ہدایات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ فائر سیفٹی حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ چارجنگ کے دوران آلات کو اکیلا نہ چھوڑیں، تصدیق شدہ چارجرز ہی استعمال کریں اور بیٹریوں میں کسی بھی قسم کی خرابی یا سوجن کی صورت میں انہیں فوری طور پر تبدیل کر دیں۔