World
پرنس ہری قانونی جنگ کا بڑا مالی نقصان، عدالتی فیصلہ سامنے آ گیا
پرنس ہری اور سر ایلٹن جان سمیت دیگر نامور شخصیات کو ڈیلی میل کے پبلشر کے خلاف دائر کردہ مقدمے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد تمام فریقین کو قانونی اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے ادا کرنا ہوں گے۔
برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس ہری اور معروف گلوکار سر ایلٹن جان سمیت متعدد نامور شخصیات کو میڈیا کے خلاف ایک بڑی قانونی جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چند روز قبل برطانوی عدالت کے ایک جج نے ڈیلی میل کے پبلشر کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے مدعیان کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس قانونی لڑائی میں شامل افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے نجی معلومات کی غیر قانونی رسائی اور دیگر معاملات پر پبلشر کو عدالت میں گھسیٹا تھا، تاہم عدالت نے پبلشر کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اب یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ تمام مدعیان کو قانونی اخراجات کی مد میں لاکھوں پاؤنڈز کی بڑی رقم ادا کرنا ہوگی۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ مقدمے کی طوالت اور عدالتی کارروائی کے دوران دونوں جانب سے بھاری فیسیں خرچ کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے قانونی بلز کی مجموعی مالیت لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ قانونی معرکہ برطانوی میڈیا اور مشہور شخصیات کے درمیان جاری کشمکش کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر پرائیویسی کے قوانین اور میڈیا کی آزادی پر بحث کو گرما دیا ہے۔ پرنس ہری پہلے بھی برطانوی پریس کے خلاف متعدد قانونی اقدامات اٹھا چکے ہیں اور ان کے وکلاء کی ٹیم اس فیصلے کے بعد کے لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے۔ تاہم فی الحال اس بھاری بھرکم قانونی بل کی ادائیگی نے مدعیان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور اس کیس کے مالی اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔