World
جنوبی چین میں قدیم سمندری راستوں سے پیتل سازی کی تاریخ کا انکشاف
گوانگ ژو سے ملنے والے قدیم ظروف نے ابتدائی پیتل کی پیداوار کے طریقوں پر اہم روشنی ڈالی ہے۔ نویں اور دسویں صدی کے ان برتنوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مقامی کاریگر درآمد کرنے کے بجائے خود پیتل تیار کرتے تھے۔
چین کے شہر گوانگ ژو سے آثار قدیمہ کی اہم دریافت سامنے آئی ہے جس نے پیتل سازی کی تاریخ کے حوالے سے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ ماہرینِ آثار قدیمہ کو نویں اور دسویں صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے قدیم ظروف اور کروسیبل ملے ہیں جن سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس دور میں تانبے اور جست سے پیتل بنانے کی ٹیکنالوجی قدیم سمندری راستوں کے ذریعے جنوبی چین تک پہنچی تھی۔ یہ تحقیق ابتدائی دھات کاری اور تجارتی راستوں کو سمجھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ دریافت ہونے والے ان برتنوں اور کروسیبلز کے تفصیلی سائنسی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے کے قدیم کاریگر پیتل کو باہر سے درآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان ظروف میں موجود باقیات اور کیمیائی اجزاء نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقامی سطح پر سیمنٹیشن کی تکنیک کا استعمال کیا جاتا تھا، جس کے ذریعے تانبے اور جست کو ملا کر اعلیٰ معیار کا پیتل حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی اس دور کی تکنیکی ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جنوبی چین کی بندرگاہیں اور ساحلی علاقے ابتدائی دور سے ہی بین الاقوامی تجارت اور تکنیکی تبادلے کے اہم مراکز رہے ہیں۔ ان سمندری راستوں کے ذریعے نہ صرف اشیاء کی نقل و حمل ہوتی تھی بلکہ فنون، ٹیکنالوجی اور سائنسی علم بھی ایک خطے سے دوسرے خطے تک منتقل ہوتا تھا۔ اس تحقیق سے مورخین کو یہ جاننے میں بھی مدد ملی ہے کہ کس طرح مقامی کاریگروں نے بیرونی اثرات کو اپنا کر اپنی صنعتی صلاحیتوں کو نکھارا اور پیتل کی پیداوار میں خود کفیل ہوئے۔