Technology
ایڈوب کے سابق انجینئر نے نوکری نہ ملنے پر اسکول بس چلانی شروع کردی
ٹیکنالوجی کے شعبے میں ڈھائی دہائیوں تک خدمات انجام دینے والے جیمز اسٹران کو نوکری سے نکالے جانے کے بعد ایک سال تک شدید جدوجہد کرنا پڑی۔ ملازمت نہ ملنے کے مایوس کن تجربے کے بعد انہوں نے بالآخر ٹیک انڈسٹری کو خیرباد کہہ کر اسکول بس چلانے کا پیشہ اپنا لیا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مسلسل تبدیلیاں اور ملازمتوں کا بحران اب بڑے تجربہ کار پروفیشنلز کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ایڈوب (Adobe) جیسے نامور ادارے میں ایک چوتھائی صدی یعنی تقریباً پچیس سال تک خدمات انجام دینے والے تجربہ کار سافٹ ویئر انجینئر جیمز اسٹران کو جب نوکری سے فارغ کیا گیا تو انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا اگلا پیشہ ورانہ سفر کمپیوٹر اسکرین کے بجائے اسکول بس کے اسٹیئرنگ کے پیچھے شروع ہوگا۔ یہ کہانی اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح جدید دور کی ٹیک انڈسٹری اپنے سینئر ترین ملازمین کو بھی اچانک بے روزگار کر دیتی ہے۔
نوکری سے نکالے جانے کے بعد جیمز اسٹران نے مسلسل ایک سال تک نئی ملازمت کے حصول کے لیے دسیوں جگہ درخواستیں جمع کروائیں، انٹرویو دیے اور ہر ممکن کوشش کی۔ تاہم، موجودہ مارکیٹ کے حالات، بڑھتی ہوئی مسابقت اور عمر کے تقاضوں کی وجہ سے انہیں ہر جگہ سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طویل عرصے تک اس بے یقینی اور مسلسل ذہنی دباؤ سے گزرنے کے بعد انہوں نے روایتی ٹیک سیکٹر کی دوڑ سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوکری کی تلاش میں ناکامی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا رخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ عزت کی روزی کما سکیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی بڑی تنخواہوں اور ائیرکنڈیشنڈ دفاتر کو چھوڑ کر جیمز اسٹران نے اب بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے کے لیے اسکول بس چلانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ ان کے پچھلے پیشے سے بالکل مختلف ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ محنت کی کوئی بھی نوکری چھوٹی نہیں ہوتی۔ ٹیک سیکٹر کے اس تجربہ کار انجینئر کی یہ کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی مشکلات اور روزگار کے بحران میں کس طرح افراد کو اپنی بقا کے لیے نئے راستے تلاش کرنا پڑتے ہیں۔
ٹیک انڈسٹری میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی چھانٹیوں نے ہزاروں ہنر مند افراد کو بے روزگار کیا ہے۔ جیمز اسٹران کا معاملہ اس رجحان کا ایک روشن اور دردناک استعارہ ہے کہ کس طرح تجربہ کار دماغوں کی مارکیٹ میں قدر کم کی جا رہی ہے۔ یہ کہانی نہ صرف ایک شخص کی جدوجہد کی داستان ہے بلکہ پوری کارپوریٹ دنیا کے نظام پر بھی ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے جہاں طویل وفاداری کے باوجود ملازمین کا مستقبل غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔