Health
کینسر کی تشخیص کی مارکیٹ 2031 تک 44.92 بلین ڈالر ہوگی
مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی نئی خصوصی رپورٹ کے مطابق کینسر کی تشخیص کی عالمی مارکیٹ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ مارکیٹ 2026 میں 29.86 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2031 تک 44.92 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ڈیلرے بیچ، فلوریڈا کی ایک معروف مارکیٹ ریسرچ فرم 'مارکیٹس اینڈ مارکیٹس' کی جانب سے جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، کینسر کی تشخیص (کینسر ڈائیگنوسٹکس) کی عالمی مارکیٹ میں نمایاں اور تیز رفتار ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ مارکیٹ جو کہ سال 2026 میں تقریباً 29.86 بلین ڈالر کی مالیت کی حامل تھی، اب سال 2031 تک بڑھ کر 44.92 بلین ڈالر کی سطح کو چھو لے گی۔ اس پورے تخمینے کے دوران مارکیٹ کی مجموعی سالانہ شرح سود یاسی اے جی آر (CAGR) تقریباً 7.0 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ رپورٹ اس شعبے میں ہونے والی نئی سائنسی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔
اس رپورٹ میں کینسر کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز، اونکولوجی ٹیسٹنگ کے نئے طریقوں اور بائیو مارکرز کی بڑھتی ہوئی مانگ کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کینسر کی بروقت تشخیص کسی بھی مریض کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے شعبے سے وابستہ ادارے اور کمپنیاں تشخیص کے جدید ترین آلات اور لیبارٹری سسٹمز پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ پیچیدہ بیماریوں کا سراغ ابتدائی مراحل میں ہی لگایا جا سکے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات اور طبی تحقیق کے بجٹ میں اضافہ ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر خطوں میں بھی کینسر کی اسکریننگ اور تشخیصی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس رحجان سے نہ صرف طبی صنعت کو مالی استحکام ملے گا بلکہ دنیا بھر کے مریضوں کو زیادہ درست اور کم وقت میں نتائج فراہم کرنے والے تشخیصی ٹیسٹ بھی باآسانی دستیاب ہو سکیں گے۔